کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے پاکستان رینجرز کے ساتھ مل کر شہر میں پانی چوری کے ایک بڑے اور منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے لاکھوں گیلن پانی چوری کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔
واٹر کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق، لسبیلا پل کے نیچے ایک خفیہ کارروائی کے دوران 33 انچ قطر کی مرکزی واٹر لائن سے پانی چوری کرنے والا غیر قانونی نیٹ ورک پکڑا گیا ہے۔ ملزمان نے مرکزی لائن تک پہنچنے کے لیے باقاعدہ ایک خفیہ سرنگ تیار کر رکھی تھی جو 30 فٹ گہرے ٹینک کے اندر چھپائی گئی تھی۔
کارروائی کے دوران حکام نے 80 ہارس پاور کی ہائی سکشن مشین اور 4 انچ قطر کی لمبی پائپ لائن برآمد کر کے قبضے میں لے لی ہے۔ ماہرین کی جانب سے پانی کے نمونوں کے ٹیسٹ (TDS 450) سے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ چوری کیا جانے والا پانی زمین کے نیچے کا کھارا پانی نہیں بلکہ واٹر بورڈ کی مرکزی لائن کا "صاف اور میٹھا” پانی تھا۔
واٹر کارپوریشن نے اس گھناؤنے جرم میں ملوث دو مرکزی ملزمان، شکیل مہر اور ابراہیم کے خلاف متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ ملزم شکیل مہر پہلے ہی واٹر بورڈ کا نادہندہ ہے اور اس کے ذمے تقریباً 10 کروڑ روپے کے واجبات بقایا ہیں۔ حکام نے غیر قانونی نیٹ ورک کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور مزید ملوث افراد کی تلاش جاری ہے۔


