کراچی میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں سندھ ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عدالت نے ایک شہری کی ہلاکت کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ حراستی ہلاکتوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقتول کے اہل خانہ نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے عزیز کو گھر سے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ظاہر کیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق یہ کارروائی ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔
پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہلاکت ایک مقابلے کے دوران ہوئی، تاہم عدالت نے دستیاب شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس موقف پر سوالات اٹھائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایف آئی اے اس کیس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور رپورٹ مقررہ مدت میں پیش کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون فراہم کریں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ قانون کی بالادستی اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے نہ صرف ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی مثبت اثر پڑنے کی توقع ہے۔


