امریکا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان نے براہِ راست مذاکرات پر اتفاق کر لیا ہے، جسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات کئی دہائیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ بات چیت واشنگٹن میں امریکی حکام کی میزبانی میں ہوئی، جہاں دونوں ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
امریکی حکام نے اس پیش رفت کو “تاریخی موقع” قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات مستقبل میں کسی ممکنہ امن معاہدے یا جنگ بندی کے فریم ورک کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں بعد پہلی براہِ راست بات چیت ہے، جس میں سرحدی سکیورٹی، جنگ بندی اور دیگر اہم امور زیر بحث آئے۔
تاہم اس عمل کو درپیش چیلنجز بھی موجود ہیں، کیونکہ لبنان کے اندر مختلف گروپس، خصوصاً حزب اللہ، ان مذاکرات کی مخالفت کر رہے ہیں اور کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، اور مختلف ممالک اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔


