ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ جنگی تناؤ کے دوران شمالی کوریا نے ایک بار پھر بیلسٹک میزائل داغ کر عالمی سیاست میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ پیانگ یانگ کی جانب سے اتوار کے روز کیے گئے ان تجربات کو ماہرین ایران کی صورتحال سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ شمالی کوریا نے رواں ماہ میں چوتھی اور رواں سال میں ساتویں بار میزائل فائر کیے ہیں، جس کا مقصد اپنی "دفاعی خود مختاری” کا مظاہرہ کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ جنوبی کوریا کے عسکری حکام کے مطابق یہ میزائل ساحلی شہر سنپو کے قریب سے داغے گئے جنہوں نے سمندر میں گرنے سے قبل 140 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ ان تجربات کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ ایران کے برعکس اپنی حفاظت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ساتویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی اس صورتحال نے شمالی کوریا کو اپنے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو مزید تیز کرنے کا جواز فراہم کر دیا ہے۔ جاپانی حکومت نے بھی ان تجربات کی تصدیق کی ہے، تاہم کسی مالی یا جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، لیکن ان تجربات نے جاپان اور جنوبی کوریا کی سکیورٹی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی محل ‘بلیو ہاؤس’ نے اس صورتحال پر ہنگامی سکیورٹی اجلاس طلب کر لیا ہے اور شمالی کوریا کے ان اقدامات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میانگ نے مذاکرات کی خواہش تو ظاہر کی ہے، لیکن موجودہ میزائل تجربات نے مذاکرات کی میز تک پہنچنے کے امکانات کو معدوم کر دیا ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر شمالی کوریا نے اپنی اشتعال انگیزی بند نہ کی تو خطے میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔


