کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی پاکستان کے اراکین کے درمیان تلخ جملوں کے بعد ہاتھا پائی ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس دوران اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان ماحول پہلے ہی کشیدہ تھا۔ اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے بعد جب حکومتی رکن نے بات شروع کی تو ایوان میں شور شرابہ بڑھ گیا۔
جماعت اسلامی کے اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے میئر کے ڈائس کے سامنے نعرے بازی کی، جس پر پیپلز پارٹی کے اراکین بھی اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور دونوں جانب سے تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال دھکم پیل اور ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔
ہنگامہ آرائی کے بعد جماعت اسلامی کے اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا، تاہم میئر نے اجلاس کو جاری رکھا اور کچھ دیر بعد دوبارہ کارروائی شروع کی گئی۔ بعد ازاں اپوزیشن ارکان کو دوبارہ بولنے کا موقع نہ ملنے پر ایک بار پھر احتجاج کیا گیا۔
میئر کراچی نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ غیر ذمہ دارانہ تھا، جبکہ اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ ماحول کو جان بوجھ کر خراب کیا گیا اور باہر سے افراد لا کر صورتحال کو بگاڑا گیا۔
شدید کشیدگی کے باعث آخرکار اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ یہ واقعہ کراچی کی بلدیاتی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اہم شہری مسائل پر بات چیت کے بجائے سیاسی محاذ آرائی غالب آتی جا رہی ہے۔


