ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ملوث جس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، اس کی شناخت 31 سالہ کول ٹومس ایلن کے طور پر ہوئی ہے، جس کا تعلق ٹورنس، کیلیفورنیا سے ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سوشل میڈیا پروفائلز کے مطابق ایلن ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور ہے جس کا تعلق انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے ہے۔ وہ کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Caltech) سے مکینیکل انجینئرنگ میں گریجویٹ ہے اور حال ہی میں اس نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ پیشہ ورانہ طور پر ایلن ایک نجی ٹیوشن سینٹر میں پارٹ ٹائم ٹیچر اور آزاد گیم ڈویلپر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
سیکرٹ سروس کے مطابق، ایلن شاٹ گن سے مسلح تھا اور اس نے واشنگٹن ہلٹن کے بال روم کے باہر ایک ایجنٹ پر فائرنگ کی، جہاں صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کے اراکین موجود تھے۔ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ایلن واقعے کے وقت اسی ہوٹل میں بطور مہمان ٹھہرا ہوا تھا۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے ملزم کو ایک "انتہائی بیمار شخص” قرار دیا ہے جس نے بظاہر تنہا یہ کارروائی کی، لیکن حملے کا کوئی واضح مقصد ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ ایلن کا آن لائن ریکارڈ اسے سائنس اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھنے والا شخص ظاہر کرتا ہے، جس نے ماضی میں روبوٹکس کے مقابلوں میں انعامات بھی جیت رکھے ہیں۔
اس واقعے کے بعد صدر اور نائب صدر کو فوری طور پر وہاں سے نکالا گیا، جبکہ ملزم کو موقع پر ہی سکیورٹی فورسز نے قابو کر کے گرفتار کر لیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایلن کی ذاتی زندگی اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ فائرنگ کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ اس واقعے نے اہم سرکاری شخصیات کی موجودگی میں ہوٹل کے مہمانوں کی سکیورٹی اسکریننگ پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ فی الحال کسی اعلیٰ عہدیدار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور ملزم وفاقی تحویل میں ہے جہاں اس کے خلاف متعدد الزامات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔


