اسلام آباد: ملک بھر میں اقلیتی طبقوں کے لواحقین اپنے پیاروں کو آخری حوالے کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ کچھ علاقوں میں قبرستانوں میں جگہ نہ ہونے کے باعث تدفین کے چیلنجز روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف شہروں، خاص طور پر اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں قبرستانوں کی گنجائش تیزی سے کم ہو رہی ہے، جس سے اقلیتوں کو اپنے انتقال کرنے والے عزیزوں کی باوقار تدفین کے لیے قبروں کی جگہ تلاش کرنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ کئی مقامات پر جنازوں کے لیے مختص جگہ ختم ہو جانے کے باعث لوگ پرانی قبروں کو بحال کرنے یا انفرادی طور پر نجی قبرستانوں سے اجازت طلب کرنے پر مجبور ہیں۔
اسلام آباد میں سرکاری قبرستانوں میں جگہ نہ ہونے کے باعث متعدد غیر منظور شدہ سوسائٹیوں کے رہائشی اپنے مرحومین کے لیے جگہ نہیں ڈھونڈ پا رہے، جبکہ لواحقین کو مختلف دفعات اور انتظامی شرائط کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے اُن کی تکلیف اور بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری منصوبہ بندی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب قبرستانوں کی جگہ بہت محدود ہو گئی ہے اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے نئے قبرستانوں کے قیام یا موجودہ جگہوں میں توسیع کی رفتار سست ہے۔ اس صورتحال نے خاص طور پر چھوٹے اور کمزور اقلیتی برادریوں پر منفی اثر ڈالا ہے، جو نا صرف زندگی میں بلکہ موت کے بعد بھی مساوی حقوق اور عزت سے فائدہ اٹھانے میں مسائل کا شکار ہیں۔
تجاویز میں شامل ہے کہ حکومت اور بلدیاتی ادارے فوری بنیادوں پر زمین مختص کریں، نئے قبرستان قائم کریں اور موجودہ قبرستانوں کی توسیع کو ممکن بنائیں، تاکہ ہر شہری کو اپنے پیاروں کو باعزت طریقے سے دفن کرنے کا حق مل سکے۔


