امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے 48 گھنٹے کے الٹی میٹم پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے اس بیان کو “غیر سنجیدہ” قرار دیتے ہوئے اس کا تمسخر اڑایا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو “جہنم” برپا کر دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں ایرانی حکام نے نہ صرف اس بیان کو مسترد کیا بلکہ خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو پورا خطہ امریکا اور اسرائیل کے لیے “جہنم” بن جائے گا۔
ادھر جنگی صورتحال کے دوران ایک امریکی لڑاکا طیارہ گرنے کے بعد اس کے عملے کے ایک رکن کی تلاش جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک پائلٹ کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرے اہلکار کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے، جس میں ہیلی کاپٹرز اور خصوصی طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات اور بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں خطے کو ایک بڑے تصادم کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور معیشت پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ تاہم موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔


