ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اختیار کی گئی ٹیرف حکمت عملی تاحال مؤثر ثابت نہیں ہو سکی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران پر معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے نہ صرف براہِ راست اقدامات بلکہ ان ممالک کے خلاف بھی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی جو ایران کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنا تھا، تاہم اب تک اس کے واضح نتائج سامنے نہیں آ سکے۔
تجزیاتی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ حکمت عملی ماضی میں دیگر ممالک کے خلاف استعمال کی گئی تھی، لیکن ایران کے معاملے میں صورتحال مختلف ہے کیونکہ یہ صرف تجارتی تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع جغرافیائی و عسکری کشیدگی کا حصہ ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ایران نے بھی اپنے اہم جغرافیائی مقام، خصوصاً آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو بطور دباؤ استعمال کیا ہے، جس کے باعث امریکہ کی معاشی حکمت عملی کا اثر محدود ہو گیا ہے۔
ادھر حالیہ پیش رفت میں امریکہ نے مزید سخت اقدامات، بشمول ممکنہ بحری ناکہ بندی، پر غور شروع کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف معاشی دباؤ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع صرف معاشی اقدامات سے حل نہیں ہو رہا، جبکہ خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔


