وفاقی بجٹ کے بعد تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکسز کے حوالے سے پھیلی تشویش پر حکومت کا مؤقف سامنے آگیا ہے۔ وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئے بجٹ میں کم آمدنی والے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم سے کم رکھا گیا ہے۔
کم تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف کے دعوے:
پریس کانفرنس کے دوران بلال اظہر کیانی نے ٹیکس سلیب کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سالانہ 6 لاکھ روپے (یعنی 50 ہزار روپے ماہانہ) تک کمانے والے افراد پر ٹیکس کی شرح اب بھی بالکل "صفر” ہے، یعنی ان سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک آمدنی والے افراد پر صرف 1 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا، جبکہ حکومت نے 12 سے 22 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے مڈل کلاس طبقے کے ٹیکس میں 11 فیصد تک کی نمایاں کمی کی ہے۔
ماہانہ تنخواہ کے حساب سے ٹیکس کٹوتی کی وضاحت:
وزیرِ مملکت نے عام فہم انداز میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جس شہری کی ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ روپے ہے، اس پر کل انکم ٹیکس صرف 500 روپے ماہانہ بنے گا۔
تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جن افراد کی ماہانہ تنخواہ 2 لاکھ روپے ہے، ان پر مجموعی طور پر 13 ہزار 500 روپے ماہانہ ٹیکس لاگو ہوگا۔ بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کے باوجود کوشش کی ہے کہ غریب اور کم تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں کے اضافی بوجھ سے محفوظ رکھا جائے اور صرف صاحبِ ثروت افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔


