ذرائع کے مطابق ملک بھر میں موسم کی صورتحال انتہائی شدید ہو چکی ہے، جہاں ایک طرف سندھ کے بیشتر اضلاع میں شدید ترین گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کے باعث ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے تو دوسری جانب پنجاب میں بارش کا ایک فعال سسٹم داخل ہو چکا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ذرائع کے مطابق سندھ کے میدانی اور ساحلی علاقوں میں سورج کا پارہ مسلسل اوپر جا رہا ہے، جس کے باعث دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے اور گرمی سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی ہے۔
دوسری جانب، صوبہ پنجاب کے متعدد حصوں میں مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ موجود ہے، جس کے باعث مختلف اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس موسمی سسٹم کی وجہ سے پنجاب کے کچھ علاقوں میں شدید گرمی کے زور میں عارضی کمی آنے کی امید ہے، تاہم صوبے کے کچھ میدانی علاقوں میں تاحال حبس اور تپش برقرار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ موسمیاتی تبدیلیاں اور شدید درجہ حرارت ملک میں قبل از وقت آنے والی موسمی تبدیلیوں کا حصہ ہیں جن کی وجہ سے ایک ہی وقت میں دو مختلف صوبوں میں بالکل مختلف موسم دیکھا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق، سندھ میں بالخصوص لاڑکانہ، نوابشاہ، جیکب آباد اور سکھر جیسے اضلاع شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے، جہاں گرم ہوائیں چلنے اور درجہ حرارت بڑھنے کی لہر آئندہ چند روز تک برقرار رہ سکتی ہے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پینے کے پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں اور دوپہر کے اوقات میں کھلے آسمان تلے کام کرنے سے احتیاط برتیں تاکہ ہیٹ اسٹروک جیسی صورتحال سے بچا جا سکے


