حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک میں برقی سواریوں (EVs) کو فروغ دینے کی کوششیں بینکوں کی جانب سے درخواستوں کی انتہائی کم منظوری کے باعث سست روی کا شکار ہو گئی ہیں۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت رواں مالی سال میں 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس تقسیم کرنے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اب تک مجموعی ہدف کا صرف 4.5 فیصد یعنی محض 5,409 بائیکس اور رکشے ہی تقسیم کیے جا سکے ہیں۔ بینکوں نے موصول ہونے والی ہزاروں درخواستوں میں سے صرف 4,075 درخواستیں منظور کیں، جو کہ کل درخواستوں کا تقریباً 9 فیصد بنتی ہیں۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ‘پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام’ میں اہم ترامیم کی منظوری دی ہے تاکہ اس عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ دوسری جانب، سیلف فنانس (خود مالی معاونت) کے تحت درخواست دینے والے شہریوں کے لیے نتائج حوصلہ افزا رہے، جہاں نہ صرف بائیکس کی فراہمی یقینی بنائی گئی بلکہ انہیں حکومتی سبسڈی بھی مل گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک بینک قرضوں کی فراہمی کے عمل کو آسان نہیں بنایا جاتا، ملک میں الیکٹرک سواریوں کا خواب ادھورا رہے گا۔


