اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے، جس کے بعد ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ مؤقف مذاکرات کے اختتام کے فوراً بعد سامنے آیا، جب دونوں فریقین کسی مشترکہ نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹوں تک جاری رہے، جن میں دونوں جانب سے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔ تاہم بنیادی معاملات پر اختلافات برقرار رہے جس کے باعث کوئی پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے مطالبات حد سے زیادہ تھے، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ دوسری جانب امریکی حکام نے بھی تصدیق کی کہ بات چیت کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
مزید رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ فی الحال آئندہ مذاکرات کے لیے کوئی شیڈول طے نہیں کیا گیا اور نہ ہی فوری طور پر نئی بات چیت کا امکان ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھے جا رہے تھے، تاہم ان کا بغیر نتیجہ ختم ہونا سفارتی عمل کے لیے ایک دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا، تاہم دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کو ختم کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ موجودہ صورتحال میں خطے میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت کو قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔


