کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے شہری کے اغوا اور مالیاتی فراڈ کے مقدمے میں نامزد ملزم اور معروف اداکار منیب احمد بٹ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی ہے۔ کراچی سینٹرل جیل میں قائم انسدادِ دہشت گردی کمپلیکس میں عدالت کے روبرو ملزم نے اپنے وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی تھی، جس پر سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل منیب احمد بٹ مکمل طور پر بے گناہ ہیں اور ان پر عائد کیے گئے تمام الزامات سیاسی یا ذاتی نوعیت کے اور بے بنیاد ہیں۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کا مقدمہ ایک دن کی تاخیر سے درج کیا گیا جس کی کوئی معقول وجہ نہیں بتائی گئی، جبکہ ملزم نے اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت بھی حاصل کر رکھی ہے، اس کے باوجود پولیس ان کے گھر پر چھاپے مار رہی ہے۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ 22 اپریل کو ایئرپورٹ جاتے ہوئے ایک شہری متعال خان کو مسلح ملزمان نے زبردستی گاڑی میں بٹھا کر اغوا کیا تھا۔ اغوا کاروں نے شہری کو یرغمال بنا کر اس کے کرپٹو اکاؤنٹ اور بینک اکاؤنٹ سے خطیر رقم نامعلوم اکاؤنٹس میں منتقل کی۔ سرکاری وکیل کے مطابق ملزمان نے شہری کے اکاؤنٹس سے 8600 امریکی ڈالر اور 24 لاکھ روپے سے زائد کی پاکستانی رقم منتقل کی، اور لیپ ٹاپ و موبائل کا لاک کھلوا کر ڈیٹا بھی ڈیلیٹ کر دیا۔ ملزمان مغوی کو کورنگی انڈسٹریل ایریا میں پھینک کر فرار ہو گئے تھے اور تفتیش کے دوران اداکار منیب بٹ کا نام سامنے آیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کو طلب کر لیا ہے۔


