وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا، جس میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر صوبے بھر میں صفائی ستھرائی کو برقرار رکھنے کے لیے "ستھرا پنجاب” وژن کے تحت ایک جامع صفائی پلان کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے گلیوں، محلوں اور غیر نامزد مقامات پر قربانی کے جانوروں کی اوجھڑی اور فضلہ پھینکنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے 50,000 روپے جرمانے کی منظوری دی ہے۔ اس غیر قانونی عمل کی نگرانی اور روک تھام کے لیے باقاعدہ ویجیلنس اسکواڈز تشکیل دیے جائیں گے۔
صوبائی وزیرِ بلدیات ذیشان رفیق اور سیکرٹری بلدیات میاں شکیل احمد کی بریفنگ کے مطابق، اس وسیع تر آپریشن میں 1 لاکھ 76 ہزار سے زائد سینیٹری ورکرز اور 8 ہزار سے زائد عارضی ملازمین حصہ لیں گے۔ پنجاب بھر میں جانوروں کے فضلے کی سائنسی انداز میں تلفی کے لیے 3,800 ابتدائی جمع کرنے کے مراکز (Collection Centers) اور 3,100 ڈمپنگ سائٹس قائم کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 7,000 ڈمپنگ پوائنٹس متحرک ہوں گے۔ اس کے علاوہ، شہریوں میں فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے بائیو ڈیگریڈیبل (تحلیل ہونے والے) شاپنگ بیگز بھی تقسیم کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے تمام محکموں کو ایک یونٹ کے طور پر کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت پر سزا اور اچھی کارکردگی پر جزا کا اصول سختی سے لاگو ہوگا۔ عید کی رات ہی سے تمام بڑے تجارتی مراکز، شاہرایوں اور چوک چوراہوں پر صفائی آپریشن شروع کر دیا جائے گا، جبکہ عید کے ایام میں مساجد اور عیدگاہوں میں عرقِ گلاب کا چھڑکاؤ بھی کیا جائے گا۔ شہری کسی بھی قسم کی شکایت درج کرانے کے لیے ستھرا پنجاب کی ہیلپ لائن 1139 پر رابطہ کر سکتے ہیں، جس کے لیے ڈپٹی کمشنرز اور واسا کے دفاتر میں مانیٹرنگ کنٹرول رومز قائم کر دیے گئے ہیں۔


