کراچی میں پولیس نے عورت مارچ کی منتظمین کو پریس کلب کے باہر سے حراست میں لے لیا، تاہم شدید عوامی احتجاج کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ روز عورت مارچ کی کارکنان، بشمول شیما کرمانی اور ٹرانس جینڈر ایکٹیوسٹ شہزادی رائے، کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے لیے جمع ہوئی تھیں۔ ان کا موقف تھا کہ انتظامیہ 10 مئی کو ہونے والے مارچ کے لیے اجازت نامہ جاری کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ پولیس نے دفعہ 144 اور سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کارکنان کو حراست میں لیا۔
شیما کرمانی کو پولیس گاڑی میں دھکیلنے کی ویڈیوز وائرل ہونے پر نیٹیزنز نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ صارفین نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ خواتین اور اقلیتوں کے پرامن احتجاج کے حق کا احترام کیا جائے۔ رہائی کے بعد کارکنان نے اعلان کیا کہ وہ پولیس کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے پرعزم ہیں۔


