امریکی جریدے ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے اپنی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سمندروں میں ایران سے منسلک تیل بردار ٹینکرز پر چڑھائی کرنے اور تجارتی جہازوں کو قبضے میں لینے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس آپریشن کا مقصد ان بحری جہازوں کو روکنا ہے جو مبینہ طور پر بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے لیے کام کر رہے ہیں یا تہران سے منسلک تجارتی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی پانیوں میں کی جائے گی، جہاں امریکی بحریہ اور اسپیشل فورسز مشتبہ جہازوں کو روکنے اور ان پر سوار ہو کر انہیں اپنی تحویل میں لینے کا اختیار استعمال کریں گی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کا بحران پہلے ہی عالمی معیشت کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، پینٹاگون نے اس حوالے سے حکمت عملی مکمل کر لی ہے اور کسی بھی وقت ان احکامات پر عمل درآمد شروع ہو سکتا ہے۔
اس ممکنہ فوجی اقدام نے عالمی تجارتی حلقوں میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کو قبضے میں لینے سے نہ صرف سپلائی چین متاثر ہوگی بلکہ اس سے ایران کے جوابی ردعمل کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ تہران ماضی میں اس طرح کی کارروائیوں کو ‘سمندری قزاقی’ قرار دے کر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دے چکا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ نے ان منصوبوں پر عمل کیا تو اس سے بحر ہند اور بحیرہ عرب کے خطے میں بحری سیکورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔ پاکستان اور مصر کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کے باوجود، واشنگٹن کا یہ سخت فوجی موقف خطے میں امن کی امیدوں کو دھچکا پہنچا سکتا ہے۔ فی الحال عالمی برادری کی نظریں سمندری حدود پر جمی ہوئی ہیں جہاں کسی بھی وقت بڑا ٹکراؤ متوقع ہے۔


