اسلام آباد: وفاقی وزیر محسن نقوی کی جانب سے مارگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں میں ایک نیا پارک اور تفریحی مقام بنانے کے اعلان نے اسلام آباد کے شہریوں میں تشویش اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ ‘باخبر نیوز’ کی رپورٹ کے مطابق، شہر کے باسیوں، ماحولیاتی کارکنوں اور سول سوسائٹی کا ماننا ہے کہ نیشنل پارک کے حدود میں کسی بھی قسم کی نئی تعمیرات جنگلی حیات اور قدرتی حسن کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوں گی۔








شہریوں کے تحفظات: اسلام آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ مارگلہ ہلز پہلے ہی بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت، کوڑے کرکٹ اور ٹریفک کے دباؤ کا شکار ہے۔ شہریوں کے مطابق، مارگلہ خود ایک قدرتی پارک ہے، وہاں مصنوعی پارکس، پختہ راستے اور فوڈ کورٹس بنانا اسے "کنکریٹ کا جنگل” بنانے کے مترادف ہے۔ سوشل میڈیا پر #SaveMargalla کے نام سے ایک مہم زور پکڑ رہی ہے جس میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت نئے منصوبوں کے بجائے موجودہ ٹریلز کی صفائی اور درختوں کے تحفظ پر توجہ دے۔
حکومتی موقف اور تنقید: اگرچہ محسن نقوی اور انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ سیاحت کے فروغ اور شہریوں کو بہترین تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہے، لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں نیشنل پارک میں ایسی سرگرمیاں غیر قانونی قرار دی جا چکی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ "ترقی” کے نام پر پہاڑوں کو کاٹنا اور قدرتی ماحول کو بدلنا وفاقی دارالحکومت کے درجہ حرارت اور زیرِ زمین پانی کی سطح پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔


