طبی ذرائع کے مطابق، کراچی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر حد سے زیادہ گوشت (اوور ایٹنگ) اور چٹ پٹے کھانوں کا بے دریغ استعمال شہریوں کو مہنگا پڑ گیا، جس کے باعث عید کے تینوں دن شہر کے تمام بڑے سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں مریضوں کا غیر معمولی رش لگا رہا۔ جناح اسپتال (JPMC)، سول اسپتال اور عباسی شہید اسپتال سمیت دیگر طبی مراکز میں ہزاروں ایسے مریض لائے گئے جو پیٹ کے شدید درد، گیسٹرو، بدہضمی، قے اور بلڈ پریشر ہائی ہونے کی شکایات کا شکار تھے۔
اسپتال انتظامیہ اور ڈیوٹی ڈاکٹرز کے مطابق، عید کے ایام میں لائے جانے والے مریضوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل تھی جنہوں نے مسلسل کئی وقت تک صرف بڑے (گائے، بھینس) یا چھوٹے (بکرے، دنبے) کا گوشت استعمال کیا اور ساتھ میں کولڈ ڈرنکس اور ثقیل غذاؤں کا سہارا لیا۔ گوشت کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے نہ صرف معدے اور آنتوں کی بیماریاں سر اٹھانے لگیں، بلکہ پہلے سے دل کے عارضے اور شوگر میں مبتلا مریضوں کی حالت بھی تشویشناک حد تک خراب ہوئی۔ ڈاکٹرز کو مریضوں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر عید کی چھٹیوں کے باوجود اضافی عملہ تعینات کرنا پڑا۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ عید کے بعد بھی گوشت کے استعمال میں اعتدال پسندی سے کام لیں اور اسے سبزیوں یا سلاد کے ساتھ ملا کر کھائیں۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ چربی والے گوشت سے مکمل پرہیز کیا جائے، جبکہ ہاضمے کو درست رکھنے کے لیے پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے اور رات کو دیر سے بھاری کھانے کھانے سے گریز کیا جائے تاکہ معدے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
کراچی: عید پر زیادہ گوشت کھانا مہنگا پڑ گیا، تینوں دن اسپتالوں میں پیٹ اور دل کے مریضوں کا شدید رش


