ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 12 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ فائرنگ کے اس تبادلے میں ایک شہری بھی جاں بحق ہوا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے خفیہ اطلاع پر دہشت گردوں کی موجودگی کے مقام پر مشترکہ کارروائی کا آغاز کیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیکھتے ہی عسکریت پسندوں نے جدید ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس پر فورسز کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا یہ تبادلہ کافی دیر تک جاری رہا، جس کے دوران علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو گھیرے میں لے کر 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا، جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، ہینڈ گرینیڈ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے اور ان کا خاتمہ علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس شدید لڑائی کے دوران بدقسمتی سے گولی لگنے کے باعث ایک مقامی شہری بھی جاں بحق ہو گیا، جبکہ کچھ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو سیل کر کے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ اگر کوئی اور دہشت گرد علاقے میں چھپا ہوا ہو تو اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ صوبے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ایسی ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رہیں گی۔


