فروری میں بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہائی کے سب سے بڑے عسکری حملوں کے بعد کوئٹہ میں زندگی کی بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہے، جبکہ سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات تاحال برقرار ہیں۔
بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کی جانب سے فروری کے آغاز میں صوبے بھر میں 18 مقامات پر بیک وقت حملے کیے گئے، جن میں رپورٹ کے مطابق 500 سے زائد جنگجوؤں نے حصہ لیا۔ ان حملوں کی شدت اور پھیلاؤ نے سیکیورٹی اداروں اور انتظامیہ کو حیران کر دیا، کیونکہ یہ حالیہ برسوں میں گروپ کی جانب سے کی گئی سب سے بڑی کارروائی تھی۔ ان حملوں کے بعد کئی ہفتوں تک سپلائی لائنز متاثر رہیں اور اہم شاہراہوں پر آمد و رفت معطل رہی، جس سے مقامی معیشت کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔
غیر ملکی میڈیا اور آزاد نامہ نگاروں کو سخت سیکیورٹی نگرانی میں کوئٹہ تک رسائی دی گئی تاکہ نقصانات اور زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، شہر کے کاروباری مراکز اب بھی ان حملوں کے خوف اور سیکیورٹی ناکہ بندیوں کے اثرات سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔ حکومت اور سیکیورٹی فورسز نے ان حملوں کے بعد علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے ہیں، تاہم مقامی آبادی میں عدم تحفظ کا احساس تاحال پایا جاتا ہے۔


