اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئی ٹی ایکسپورٹرز اور فری لانسرز کے لیے نئی سہولیات کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد برآمدی عمل کو آسان بنانا اور غیر ضروری دستاویزی تقاضوں کو کم کرنا ہے۔
نئے اقدامات کے تحت آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو اب ہر ٹرانزیکشن کے لیے ’فارم آر‘ جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے وہ اکاؤنٹ کھولتے وقت ایک مرتبہ اپنی سروسز کی نوعیت کی تفصیل فراہم کریں گے، جس سے ان کے لیے عمل مزید آسان ہو جائے گا۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایکسپورٹرز کے اکاؤنٹس کے ساتھ متعلقہ کوڈز خود منسلک کریں تاکہ ٹرانزیکشن کی پراسیسنگ تیزی سے ہو سکے۔ اس کے علاوہ، برآمدی رقوم کی وصولی اور بیرون ملک ادائیگیوں کے لیے ایک ورکنگ ڈے کا ٹرن اراؤنڈ ٹائم مقرر کیا گیا ہے۔
مزید برآں، بیرون ملک سروسز حاصل کرنے کے لیے درکار دستاویزات کو بھی یکساں اور سادہ بنایا گیا ہے تاکہ مختلف بینکوں میں طریقہ کار ایک جیسا ہو۔ بینکوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام قائم کریں تاکہ صارفین کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔
نئے قواعد کے مطابق ’فارم آر‘ کی حد بڑھا کر 25,000 ڈالر سے زائد کر دی گئی ہے، جس سے چھوٹے فری لانسرز اور کاروباروں کو مزید سہولت ملے گی۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور فری لانسرز اس شعبے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔


