آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ اس کے رکن ادارے پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کرانے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو اس کی رقم واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹیکسٹائل انڈسٹری کے اس ممکنہ اقدام کا مقصد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنا اور مالی دباؤ کو کم کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فنڈ کو بطور سپورٹ اسٹیٹ بینک میں رکھا جائے گا تاکہ کرنٹ اکاؤنٹ اور ادائیگیوں کے توازن پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی ادائیگیاں شامل ہیں۔ ایسے میں نجی شعبے کی جانب سے اس نوعیت کی پیشکش کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، جو حکومتی کوششوں کے ساتھ مل کر معاشی استحکام میں کردار ادا کر سکتی ہے۔
اے پی ٹی ایم اے کے مطابق اس تجویز پر حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا، تاہم صنعتکار اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ صورتحال میں ملکی معیشت کو سہارا دینا ضروری ہے۔
یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کا نجی شعبہ نہ صرف کاروباری سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ قومی معیشت کے استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اگر یہ فنڈ جمع کرایا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف مالی دباؤ میں کمی آئے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے معاشی اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔


