ذرائع کے مطابق سیالکوٹ کے ایک نجی ہسپتال سے ایک 18 سالہ نوجوان نرس کی لاش پراسرار حالت میں برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید سنسنی اور خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے اطلاع ملنے پر پولیس اور فرانزک ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور جائے حادثہ سے تمام ضروری شواہد اور ثبوت اکٹھے کیے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق متوفیہ ہسپتال میں بطور نرس فرائض سرانجام دے رہی تھی اور اس کی موت کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکی ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاکہ موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ خودکشی کا معاملہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ کارروائی یا قتل کی سازش کارفرما ہے۔ ہسپتال کے عملے اور انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور واقعے کے وقت ہسپتال میں موجود افراد کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔
نوجوان نرس کے اہلخانہ نے واقعے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ اور فرانزک شواہد سامنے آنے کے بعد ہی اصل حقائق واضح ہوں گے، تاہم تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


