ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک اہم ثالثی کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں سفارتی سرگرمیوں کو تیز کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو ممکن بنایا اور جنگ بندی کی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کیا۔
حالیہ پیش رفت میں پاکستان کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز سامنے آئی، جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کے لیے وقت فراہم کرنا تھا۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ اسلام آباد کو ایک فعال ثالث کے طور پر نمایاں کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بھارت کے کردار پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے، جہاں اسے خطے میں کم مؤثر یا غیر فعال کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے براہ راست ثالثی کے بجائے سفارتی رابطوں تک خود کو محدود رکھا ہے۔
پاکستان کی ثالثی کوششوں میں اس کی جغرافیائی حیثیت اور دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے، جس کی وجہ سے اس کی موجودہ سفارتی سرگرمیوں کو تقویت ملی ہے۔
ادھر کچھ حلقوں کی جانب سے پاکستان کے کردار پر تنقید بھی سامنے آئی ہے، جبکہ بھارت کو زیادہ مؤثر ثالث قرار دینے کی آراء بھی دی گئی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں ایران جنگ نے خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی حکمت عملیوں کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے، جہاں مختلف ممالک اپنے اپنے مفادات کے تحت کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری کی توجہ اس تنازع کے ممکنہ حل پر مرکوز ہے۔


