ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میوزیم آف ہسٹری کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس اہم تقریب کے موقع پر صوبائی وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور معروف فلم میکر شرمین عبید چنائے بھی موجود تھے۔ اس جدید میوزیم کے قیام کا بنیادی مقصد تحریک آزادی، قیام پاکستان، سندھ کی قدیم تہذیب اور تقسیم ہند کے وقت کراچی کی جانب ہجرت کرنے والوں کی تاریخ کو منفرد اور نمایاں انداز میں پیش کرنا ہے۔ اس منصوبے کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کیا جا رہا ہے۔
اس میوزیم میں تاریخ کو محفوظ اور روشناس کرانے کے لیے نایاب آرکائیوز، زبانی تاریخیں (اورل ہسٹریز) اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ ہزار سے زائد زبانی تاریخیں ریکارڈ کرنے والی تنظیم ‘سٹیزنز آرکائیو آف پاکستان’ اس منصوبے میں اہم شراکت دار کے طور پر کام کر رہی ہے۔ یہ تنظیم اب تک 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد تاریخی ریکارڈز اور دستاویزات کو کامیابی سے محفوظ کر چکی ہے، جن کی مدد سے میوزیم کو مزید دستاویزی اور تاریخی اعتبار سے مستحکم بنایا جائے گا۔
میوزیم کے اندر کراچی کی تجارت، ثقافت، ہجرت اور شہر کے سماجی ارتقا کی داستان کو جدید اور انٹرایکٹو انداز میں پیش کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ جہاں عام عوام اور نوجوان نسل کے لیے ثقافتی شعور کا باعث بنے گا، وہیں محققین اور تاریخ دانوں کے لیے بھی تحقیق کی تمام تر سہولیات ایک ہی چھت تلے دستیاب کرے گا۔ لاہور کے نیشنل ہسٹری میوزیم کی کامیابی کے بعد، یہ کراچی میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد جدید انٹرایکٹو تاریخی میوزیم ہوگا جو شہر کی تاریخ کو زندہ جاوید رکھے گا۔


