اسلام آباد میں ایک خصوصی عدالت نے ٹک ٹاکر اور ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر فضیلہ عباسی کو عبوری پیشگی ضمانت منظور کر لی ہے، اور انہیں تحقیقات کے دوران تعاون کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے ان کی ضمانت 50,000 روپوں کے مچلکے کے عوض منظور کی ہے، جبکہ کیس کی مزید سماعت 15 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے عدالت میں اپنے وکیل نعیم بخاری کے ہمراہ پیش ہو کر عبوری ضمانت کی درخواست دی۔ عدالت نے درخواست پر سماعت کے بعد ضمانت منظور کی اور حکم دیا کہ وہ تفتیشی عمل کے دوران عدالت اور افسران کے ساتھ تعاون کریں۔
یہ معاملہ ایک الlegally Alleged غیر قانونی کلینک سے متعلق مقدمے میں زیر سماعت ہے، جس میں عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک کلینک کو بغیر قانونی اجازت کے چلایا۔ ایف آئی اے نے ان کے خلاف اس کیس کے علاوہ منی لانڈرنگ کے ایک اور کیس میں بھی مقدمات درج کیے ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں بھی ان کی عبوری ضمانت بحال کی تھی اور انہیں ٹرائل کورٹ میں مزید کارروائی کے لیے رجوع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سابقہ سماعت میں نیا حکم بھی ان حالات کے تناظر میں آیا، جس میں عدالت نے عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی مگر بعد میں اعلیٰ عدالت کی طرف سے ریلیف دیا گیا۔
عدالت کا حکم ہے کہ ڈاکٹر عباسی تحقیقات میں تعاون کریں اور آئندہ سماعت میں خود پیش ہوں۔ عدالتی کارروائی اب 15 اپریل کو دوبارہ شروع ہو گی، جس کے دوران مزید قانونی تقاضے طے کیے جائیں گے جیسا کہ تفتیشی عمل جاری ہے۔


