ذرائع کے مطابق، بنگلادیش کرکٹ ٹیم نے سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے پانچویں اور آخری دن پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں 2-0 سے تاریخی کلین سوئپ مکمل کر لیا ہے۔ یہ بنگلادیش کی ہوم گراؤنڈ پر پاکستان کے خلاف تاریخ کی پہلی ٹیسٹ سیریز جیت ہے، جبکہ مجموعی طور پر یہ پاکستان کے خلاف ان کی مسلسل دوسری کلین سوئپ فتح ہے، اس سے قبل بنگلادیش نے 2024 میں پاکستان کو اس کے اپنے ہوم گراؤنڈ پر عبرت ناک شکست دی تھی۔
ریکارڈ 437 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم چوتھے دن کے کھیل کے اختتام پر 316 رنز پر 7 وکٹیں گنوا چکی تھی اور پانچویں دن کے کھیل کے پہلے ہی سیشن میں پوری ٹیم 328 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے 166 گیندوں پر 94 رنز کی شاندار اور جرات مندانہ اننگز کھیل کر میچ کو بچانے کی بھرپور کوشش کی اور ساجد خان (28) کے ساتھ آٹھویں وکٹ کے لیے 54 رنز کی شراکت قائم کی، تاہم وہ اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے۔ بنگلادیش کے اسپنر تائیجل اسلام نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری اننگز میں 120 رنز کے عوض 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے پاکستان کی مڈل اور ٹیل آرڈر بیٹنگ لائن کو اکھاڑ پھینکا۔ بنگلادیش نے پہلے ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو 104 رنز سے شکست دی تھی۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کپتان شان مسعود نے اعتراف کیا کہ ٹیم سے پہلی تین اننگز میں بہت سی غلطیاں ہوئیں، جس کی وجہ سے چوتھے اور پانچویں دن کی محنت رنگ نہ لا سکی۔


