قومی اسمبلی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید بحث دیکھنے میں آئی، جہاں اپوزیشن نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ حکومت نے اس فیصلے کا دفاع کیا۔
اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن ارکان نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر فوری بحث کا مطالبہ کیا، جس کے بعد سوالیہ وقفہ معطل کر دیا گیا تاکہ اس اہم مسئلے پر گفتگو کی جا سکے۔
وزیر پیٹرولیم نے ایوان کو بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کئی ہفتوں تک قیمتوں کا بوجھ خود برداشت کیا جس سے اربوں روپے کا مالی دباؤ پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی 80 سے 90 فیصد پیٹرولیم ضروریات درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر ملک پر پڑتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت نے پیٹرول کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا اور متبادل راستوں کے ذریعے درآمد جاری رکھی۔
حکومت کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے مخصوص طبقات کو سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، جس میں بائیک سوار، ٹرانسپورٹرز اور دیگر شعبے شامل ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے قیمتوں میں اضافے کو عوام پر بوجھ قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔ ایوان میں مختلف ارکان نے اس معاملے پر کھل کر اظہار خیال کیا، جس کے باعث ماحول خاصا کشیدہ رہا۔


