ذرائع کے مطابق، ملک کی مقامی عدالت نے ثناء یوسف قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جرم ثابت ہونے پر مرکزی ملزم کو سزائے موت کی سزا سنا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ/سیشن کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ناقابلِ تردید سائنسی، ڈیجیٹل اور عینی شاہدین کے شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملزم نے ثناء یوسف کو بے دردی سے قتل کیا، جو کہ ایک سنگین اور معافی کے ناقابل جرم ہے۔
عدالت نے ملزم پر سزائے موت کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانے کی سزا بھی عائد کی ہے، جو عدم ادائیگی کی صورت میں مزید قید کی سزا میں تبدیل ہو جائے گی۔ عدالتی فیصلہ سنتے ہی عدالت کے احاطے میں موجود مقتولہ ثناء یوسف کے لواحقین آبدیدہ ہو گئے اور انہوں نے انصاف کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی پیاری واپس نہیں آ سکتی، لیکن سفاک قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچانے سے قانون کی بالادستی قائم ہوئی ہے اور دیگر مجرموں کے لیے عبرت کا سامان بنے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، ایسے ہائی پروفائل قتل کیسز میں بروقت سخت سزاؤں سے معاشرے میں اسٹریٹ کرائمز اور خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔


