وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں وزیراعظم پاکستان اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے فیصلے کے خلاف دائر حکومتی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
دو رکنی بنچ اور سماعت کی تاریخ:
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم دو رکنی معزز بنچ آئندہ ہفتے 16 جون کو اس انتہائی اہم اور حساس نوعیت کے کیس کی سماعت کرے گا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
کیس کا پس منظر اور پسِ پردہ محرکات:
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کے حوالے سے عدالتی احکامات کی مبینہ حکم عدولی اور سستی پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزیراعظم اور وفاق کے اعلیٰ حکام (کابینہ) کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا حکم صادر کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو وفاقی حکومت نے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر رکھا تھا، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر تمام ممکنہ سفارتی کوششیں کر رہی ہے اور اس معاملے میں توہینِ عدالت کی کارروائی کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں ہے۔ اب سب کی نظریں 16 جون کی سماعت پر لگی ہیں۔


