جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے ایک اہم پالیسی بیان میں اعلان کیا ہے کہ جرمنی میں امریکی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک (Tomahawk) کروز میزائلوں کی مجوزہ تنصیب کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں کیے گئے اس فیصلے، جس کے تحت جرمنی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تعیناتی ہونی تھی، کو چانسلر میرز نے عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جرمن چانسلر کا یہ بیان برلن کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب یورپ کی سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے۔
چانسلر میرز کے مطابق اس منصوبے کو کال آف کرنے کا مقصد خطے میں فوجی تناؤ کو کم کرنا اور سفارتی مذاکرات کے لیے جگہ بنانا ہے۔ یاد رہے کہ ٹوماہاک میزائلوں کی جرمنی میں تنصیب کے اعلان پر روس کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا اور جرمنی کے اندر بھی عوامی و سیاسی سطح پر اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چانسلر میرز کا یہ اقدام امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات میں ایک نئی جہت پیدا کر سکتا ہے، جبکہ کریملن نے اس فیصلے کا محتاط انداز میں خیر مقدم کیا ہے۔ جرمنی کی نئی قیادت اب یورپی دفاعی خود مختاری اور ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کے لیے ایک متوازن حکمتِ عملی اپنانے کی کوشش کر رہی ہے۔


