سپریم کورٹ آف پاکستان نے تیزاب گردی کے خلاف ایک تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے نئی اور سخت گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کے تحریر کردہ 14 صفحات پر مشتمل فیصلے میں فیصل آباد کی متاثرہ خاتون اقرا پروین پر تیزاب پھینکنے والے مجرم عبدالمنان کی اپیل خارج کر دی گئی ہے اور اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے مجرم عبدالمنان کو حکم دیا ہے کہ وہ متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے معاوضہ بھی ادا کرے۔
تحریری فیصلے میں تیزاب گردی کو قتل سے بھی بدتر جرم قرار دیتے ہوئے حکومت کو قانون سازی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ تیزاب گردی کے متاثرین کو معذور افراد کے کوٹے میں شامل کیا جا سکے اور ‘نیشنل ایسڈ سروائر ری ہیبلیٹیشن فنڈ’ قائم کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے گائیڈ لائنز میں مزید ہدایت کی ہے کہ حکومت متاثرین کے لیے میڈیکل، سرجری اور خصوصی فزیکل تھراپی کے فنڈز مختص کرے، اور ان کی معاشی خودمختاری کے لیے ماہانہ معاوضہ مقرر کیا جائے۔
فیصلے میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ تیزاب گردی کے باعث متاثرین کی ہونے والی "سوشل ڈیتھ” (سماجی تنہائی) سے نمٹنے کے لیے ان کی نفسیاتی اور سماجی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔


