پاکستان کے سب سے بڑے معاشی مرکز اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے سنگین بحران کے خلاف شہریوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے 6 جون 2026 کو ایک منفرد "خاموش احتجاج” (Silent Protest) ریکارڈ کروایا گیا ہے۔
سوشل میڈیا اور زمینی سطح پر متحرک عوامی حلقوں نے اس پرامن احتجاج کے ذریعے وزیرِ اعظم پاکستان، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور سندھ حکومت کی توجہ شہرِ قائد کے دیرینہ سفری مسائل کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔
احتجاج کے بنیادی اسباب اور عوامی شکایات:
ٹیکس کے بدلے سہولیات کا فقدان: مظاہرین اور شہریوں کا مؤقف ہے کہ کراچی پورے ملک کو 70 فیصد سے زائد ریونیو اور ٹیکس کما کر دیتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں کے کروڑوں عوام آج بھی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور دھواں اڑاتی، خستہ حال پرانی بسوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
ناقص ٹرانسپورٹ سسٹم: گرین لائن اور اورنج لائن جیسے چند محدود منصوبوں کے علاوہ شہر کی اکثریتی آبادی کے لیے کوئی باقاعدہ اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ خواتین، بزرگوں اور طالب علموں کو روزانہ ذلت آمیز سفر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبات:
خاموش احتجاج کے شرکاء نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سمیت صوبائی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی فنڈز جاری کیے جائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبہ مل کر کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر میں جدید بسوں کی تعداد بڑھائیں اور گرین، ریڈ اور یلو لائنز جیسے ادھورے منصوبوں کو جلد از جلد پورے شہر میں پھیلایا جائے تاکہ ٹیکس دینے والے شہریوں کو ان کا بنیادی حق مل سکے۔


