ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آج اسلام آباد پہنچ رہا ہے جہاں وہ امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے 10 نکاتی امن منصوبے پر بات چیت کرے گا۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی ہے، جسے پاکستان کی ثالثی سے ممکن بنایا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ مذاکرات نہایت اہم نوعیت کے ہیں اور ان میں سنجیدگی کے ساتھ پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکات میں پابندیوں کا خاتمہ، خطے سے امریکی افواج کا انخلا، اور علاقائی تنازعات کا مکمل حل جیسے بڑے مطالبات شامل ہیں۔
اس منصوبے میں آبنائے ہرمز سے متعلق بھی اہم نکات شامل ہیں، جہاں ایران نے اس اہم عالمی گزرگاہ پر اپنے کردار کو تسلیم کروانے کی بات کی ہے۔ ساتھ ہی جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے اور منجمد اثاثوں کی واپسی بھی اس پلان کا حصہ ہیں۔
پاکستان میں ہونے والے یہ مذاکرات دراصل ایک بڑے امن معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ جنگ بندی کو ایک عارضی وقفہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد مستقل حل کے لیے ماحول تیار کرنا ہے۔
دوسری جانب، عالمی سطح پر بھی ان مذاکرات کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی راستہ ابھی بھی کھلا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں اس کے نتائج پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔


