اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود پاکستان کی میزبانی میں امن عمل پر بات چیت کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ یہ مذاکرات ایک نازک سیز فائر کے بعد ہو رہے ہیں جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور دیرپا امن کی طرف پیش رفت کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ایرانی وفد، جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، نور خان ایئر بیس کے ذریعے اسلام آباد پہنچا۔ وفد میں اعلیٰ سطحی سیاسی، عسکری اور معاشی نمائندے بھی شامل ہیں، جو ایران کے مؤقف کو مذاکرات میں پیش کریں گے۔ دوسری جانب امریکی وفد بھی اسلام آباد میں موجود ہے، جو وائس پریزیڈنٹ کی قیادت میں مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جبکہ مرکزی مذاکراتی سیشن آئندہ مرحلے میں متوقع ہیں۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد موجودہ سیز فائر کو مستحکم بنانا اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک مستقل فریم ورک تیار کرنا ہے۔
پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے اور اسے خطے میں سفارتی ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومتی سطح پر ان مذاکرات کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ موقع خطے میں امن کے امکانات کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی اور انتظامی سطح پر سخت اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ وفود کی آمد و رفت اور مذاکراتی عمل محفوظ ماحول میں مکمل ہو سکے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا ادارے بھی اس پیش رفت کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی اور سیاسی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔


