ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) یا پولیس کی ایک کامیاب کارروائی کے دوران افغان پناہ گزینوں اور غیر ملکیوں کے لیے نادرا کے جعلی شناختی کارڈ (CNIC) اور پاکستانی پاسپورٹ تیار کرنے والے ایک بڑے اور خطرناک گروہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ پشاور کے ایک مخصوص علاقے میں کچھ عناصر غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو پاکستانی شہریت کے جعلی دستاویزات فراہم کرنے کے دھندے میں ملوث ہیں، جس پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے کر چھاپہ مارا گیا۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران گروہ کے اہم کارندوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں نادرا کے جعلی فارمز، کمپیوٹرز، پرنٹرز، مختلف سرکاری محکموں کی جعلی مہریں، جعلی کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز اور پاسپورٹ برآمد کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اب تک متعدد افغان پناہ گزینوں سے خطیر رقم وصول کر کے انہیں جعلی دستاویزات فراہم کر چکے ہیں تاکہ وہ ملک میں قانونی حیثیت حاصل کر سکیں یا ان دستاویزات کی مدد سے بیرونِ ملک سفر کر سکیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد نادرا اور پاسپورٹ آفس کے اندر موجود ان کے مبینہ سہولت کاروں اور کالی بھیڑوں کا پتہ لگانے کے لیے بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ غیر قانونی دستاویزات کی تیاری ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حکام نے ملزمان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے سخت ترین قانونی کارروائی شروع کر دی ہے تاکہ اس پورے نیٹ ورک کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔


