اسلام آباد: پاکستان نے اقوام متحدہ کے ماہرین کے اس مؤقف پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افغانستان میں موجود ہونے کے واضح شواہد موجود نہیں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جنگ بندی کی تجویز دی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے حملوں کے افغانستان سے تعلق کے ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
تاہم پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد بین الاقوامی رپورٹس، خصوصاً اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی دستاویزات، واضح طور پر افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اور اس کی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے شواہد کو نظر انداز کرنا زمینی حقائق سے انکار کے مترادف ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ماہرین نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور تمام الزامات کی شفاف تحقیقات کریں۔


