ایک کروز شپ پر ہنٹا وائرس (Hentavirus) کے پھیلاؤ کے خدشات کے بعد دنیا بھر کے کئی ممالک میں سیکیورٹی اور طبی نگرانی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ اب تک اس وائرس سے 3 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، ایک بین الاقوامی کروز شپ پر ہنٹا وائرس کے متعدد مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہنٹا وائرس کی ایک نایاب قسم ہے جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ یہ محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وائرس کا پھیلاؤ غالباً جنوبی امریکہ میں سفر کے دوران یا جہاز پر سوار ہونے سے پہلے ہوا تھا۔
امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، سوئٹزرلینڈ، جنوبی افریقہ اور سنگاپور سمیت کئی ممالک نے اپنے ہاں پہنچنے والے مشتبہ مسافروں کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔ امریکی طبی ادارے (CDC) نے کئی ریاستوں میں واپس آنے والے مسافروں کو طبی مشاہدے میں رکھا ہے، جبکہ یورپی یونین نے بھی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
ارجنٹائن میں حکام نے چوہوں اور دیگر جانوروں کی جانچ کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ وائرس کے اصل ذریعے کا سراغ لگایا جا سکے۔ اگرچہ ماہرین کے مطابق عام عوام کے لیے اس کا خطرہ فی الحال کم ہے، تاہم کروز شپ سے مختلف ممالک جانے والے مسافروں کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔


