فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے ڈائریکٹر جنرل (DG) کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی (Standing Committee) کے سامنے پیش کی گئی سرکاری دستاویزات میں ایک انتہائی تشویشناک اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 132 پاکستانی شہریوں کو دنیا کے مختلف ممالک سے ڈی پورٹ (ملک بدر) کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 5 سال سے زائد کے عرصے کے دوران مجموعی طور پر 2 لاکھ 59 ہزار پاکستانی شہریوں کو دنیا کے 36 ممالک سے زبردستی بے دخل کر کے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔
رپورٹ کے اہم اور پریشان کن حقائق:
دوست ممالک سے بے دخلی: رپورٹ میں سب سے افسوسناک انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ ملک بدر کیے جانے والے کل پاکستانی شہریوں میں سے 65 فیصد ایسے ہیں جنہیں پاکستان کے انتہائی قریبی اور دیرینہ "دوست ممالک” سے بے دخل کیا گیا ہے۔
ملک بدری کی بنیادی وجوہات: ڈی جی ایف آئی اے نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستانیوں کی اتنی بڑی تعداد میں بے دخلی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی وجہ بیرونِ ملک ملازمت یا رہائش کے لیے جعلی (Fake) یا نامکمل سفری دستاویزات کا استعمال ہے۔
اس کے علاوہ ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد متعلقہ ممالک میں "غیر قانونی قیام” (Overstay) کرنا بھی بے دخلی کی ایک بنیادی اور بڑی وجہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد کمیٹی نے انسانی اسمگلنگ اور جعلی ایجنٹوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنے کی ہدایت کی ہے۔


