پاکستان نے خلا میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنا تیسرا مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ (EO-3) چین کے تائیوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا ہے۔ سپارکو (SUPARCO) کے مطابق، یہ سیٹلائٹ Long March-6 کیریئر راکٹ کے ذریعے ہفتہ، 25 اپریل 2026 کو شام 8:15 بجے (بیجنگ وقت) خلا میں روانہ کیا گیا اور یہ اپنی مقررہ مدار میں کامیابی سے داخل ہو گیا ہے۔ یہ لانچ پاکستان کی خلائی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
Pakistan Launches Indigenous EO-3 Satellite , Marking Major Space Milestone pic.twitter.com/JBtYAfQhuj
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) April 25, 2026
EO-3 سیٹلائٹ جدید تجرباتی پے لوڈز سے لیس ہے، جس کا مقصد اگلی نسل کی خلائی ٹیکنالوجیز کی جانچ کرنا ہے۔ اس میں امیجنگ کی درستگی کے لیے ملٹی جیومیٹری امیجنگ ماڈیول، توانائی ذخیرہ کرنے کا جدید نظام اور ریئل ٹائم ڈیٹا پروسیسنگ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی یونٹ شامل ہے۔ یہ سیٹلائٹ پاکستان کے زمینی مشاہداتی بیڑے میں شامل ہو کر ریموٹ سینسنگ کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے گا، جس سے سماجی و اقتصادی شعبوں، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ماحولیاتی نگرانی میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس تاریخی کامیابی پر سپارکو کے سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد پیش کی ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے خلائی پروگرام کو آگے بڑھانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور اس شعبے میں چین کے مسلسل تعاون کی تعریف کی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان نے جنوری 2025 میں EO-1 اور فروری 2026 میں EO-2 سیٹلائٹس بھی چین کے تعاون سے کامیابی سے لانچ کیے تھے۔


