بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات سے کسی بڑی اسٹریٹجک پیش رفت کی توقع نہیں تھی، کیونکہ دونوں طاقتوں کے درمیان طویل عرصے سے گہرا عدم اعتماد اور ٹیرف سے بڑھ کر وسیع تنازعات موجود ہیں۔ تاہم، بڑھتی ہوئی عالمی عدم استحکام کے اس دور میں یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید خراب ہونے سے روکنے اور روابط برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل رہی۔ ملاقات کے دوران محدود معاشی نتائج سامنے آئے، جن میں چین کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات اور بیف کی امپورٹ بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ دونوں حکومتوں نے مارکیٹ تک رسائی اور ٹیرف پر مذاکرات جاری رکھنے کا اشارہ دیا۔
اداریے میں تذکرہ کیا گیا ہے کہ امریکی وفد میں اعلیٰ کاروباری شخصیات اور سینیئر معاشی حکام کی شمولیت کے باوجود کوئی بڑا تجارتی بریک تھرو سامنے نہیں آسکا، اور بیجنگ نے کئی معاہدوں کو محض ابتدائی نوعیت کا قرار دیا، جبکہ مائیکرو چپس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر امریکی پابندیاں اور اہم صنعتی خام مال پر چینی کنٹرول برقرار رہا۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر ہونے سے بچانے پر اتفاق کیا، جبکہ واشنگٹن کو ایران کے جوہری عزائم اور خطے میں کشیدگی روکنے کے لیے چین کی جانب سے سفارتی تعاون کی یقین دہانی بھی حاصل ہوئی۔
ملاقات کا سب سے حساس پہلو تائیوان کی صورتحال رہا، جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تائیوان کے معاملے پر بیجنگ کی "ریڈ لائنز” عبور کرنے کے خلاف سخت الفاظ میں متنبہ کیا۔ چینی صدر نے امریکی قیادت پر زور دیا کہ وہ پاک-چین-امریکہ تثلیث اور عالمی طاقتوں کی باہمی مسابقت کو "تھوسیڈائیڈز ٹریپ” (Thucydides Trap) یعنی براہِ راست جنگی تصادم میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ اداریے کے مطابق، دونوں ممالک اب کسی بڑے تزویراتی اعتماد کی بحالی کے بجائے محض ایک دوسرے کے ساتھ مواصلات کا ایسا راستہ تلاش کر رہے ہیں جو ان کی شدید رقابت کو براہِ راست جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکے۔


