ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک سخت اور غیر معمولی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ “آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے”، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ یہ بیان انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کیا، جہاں انہوں نے ایران کو ایک معاہدے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

رپورٹس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے، لیکن صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں بڑے پیمانے پر کارروائی کا امکان موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حالات تبدیل ہوتے ہیں اور “مختلف اور کم شدت پسند قیادت سامنے آتی ہے” تو شاید صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ ان کے بیان میں “ریجیم چینج” کا ذکر بھی کیا گیا، جس نے سیاسی حلقوں میں مزید بحث کو جنم دیا ہے۔
اس بیان کے بعد عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں مختلف سیاسی رہنماؤں اور حلقوں نے اس زبان کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور صورتحال کو غیر متوقع رخ دے سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اہم اقدامات کر رہا ہے، جن میں ممکنہ طور پر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر ایرانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا، تاہم مجموعی طور پر یہ پیغام عالمی سطح پر ایک اہم اور حساس لمحے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔


