امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق متنازع بیان پر دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں سیاستدانوں اور عالمی شخصیات نے اس بیان کو خطرناک قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ اگر ایران نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو “ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی”۔ اس بیان نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
امریکی کانگریس کے متعدد اراکین نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے “نسل کشی کا پیشگی اعتراف” قرار دیا۔ بعض رہنماؤں نے کہا کہ اس طرح کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں اور اس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
ڈیموکریٹک رہنماؤں نے صدر کے بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے بیانات دنیا کو ایک بڑے تصادم کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ کچھ سیاستدانوں نے یہاں تک مطالبہ کیا کہ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی عالمی قوانین کے خلاف ہے اور اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور جنگ بندی کے باوجود حالات غیر یقینی کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان نے نہ صرف سفارتی کوششوں کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔


