پاکستان کے بندرگاہی امور کے وزیر، محمد جنید انور چوہدری نے ملک کی بندرگاہوں پر کنٹینر اور کارگو کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک 30 روزہ منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی ٹرانس شپمنٹ ٹریفک سے فائدہ اٹھانا اور بندرگاہی نظام کو ہموار بنانا ہے، جو ایران میں جاری جنگ کے بعد خلیج فارس کی شپنگ لائنز میں رکاوٹوں کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
ایران میں جنگ کے باعث ہرمز کی تنگی سے بحری ٹریفک متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں تجارت اور توانائی کی قیمتیں بڑھ گئیں اور جہازوں کو راستے بدلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس تبدیلی سے کراچی سمیت پاکستان کی بندرگاہوں پر کارگو کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
وزیر نے اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے بعد کہا کہ پاکستان کو اب علاقائی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک پیشگی اور جامع فریم ورک اپنانا ہوگا تاکہ ملک کی بندرگاہوں کی استعداد اور ممکنہ ترقی برقرار رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ حکام کو فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ پھنسے ہوئے کنٹینرز اور اضافی مال کو 30 دن کے اندر صاف کیا جا سکے اور بندرگاہی عمل درآمد بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
منصوبے کے تحت مصروف ڈوک علاقوں سے کنٹینرز کو آف-ڈوک اسٹوریج میں منتقل کرنا، کارگو ریکارڈز کو اپ ڈیٹ رکھنا، اور ترک شدہ اشیاء کی نیلامی کے عمل کو تیز کرنا شامل ہے، جس میں کسٹمز اہلکار بھی عمل درآمد کی نگرانی کریں گے۔ وزیر نے کہا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی سرگرمیوں کے تناظر میں پورٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانا ضروری ہے اور تجارتی شرائط کے تحت اضافی بوجھ سنبھالنے کے لیے واضح میکانزم وضع کرنا ہوگا۔
اس اقدام سے نہ صرف ملکی تجارت متاثر نہیں ہوگی بلکہ پاکستان کی بندرگاہیں بین الاقوامی بحری تجارت میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہوں گی۔


