پاکستان کرکٹ ٹیم کے ابھرتے ہوئے فاسٹ بولر نسیم شاہ ایک بار پھر انجری کا شکار ہو گئے ہیں، جس نے نہ صرف ان کی ٹیم بلکہ شائقین کرکٹ کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق فاسٹ بولرز میں سائیڈ اسٹرین انجری ایک عام مسئلہ ہے، خاص طور پر جب کھلاڑی مسلسل کرکٹ کھیل رہے ہوں اور ورک لوڈ زیادہ ہو۔
کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نسیم شاہ جیسے نوجوان بولرز کے لیے فٹنس مینجمنٹ انتہائی اہم ہوتی ہے۔ اگر ان کے ورک لوڈ کو مناسب طریقے سے کنٹرول نہ کیا جائے تو ایسی انجریز بار بار سامنے آ سکتی ہیں۔ اس وقت ٹیم مینجمنٹ اور میڈیکل اسٹاف کی اولین ترجیح ان کی مکمل ریکوری ہے تاکہ مستقبل میں کسی بڑی انجری سے بچا جا سکے۔
سپورٹس فزیوتھراپسٹس کے مطابق سائیڈ انجری کی ریکوری میں وقت لگتا ہے اور جلد بازی کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیم اکثر ایسے کھلاڑیوں کو مکمل آرام دیتی ہے تاکہ وہ مکمل فٹ ہو کر ہی میدان میں واپس آئیں۔ نسیم شاہ کی رفتار اور سوئنگ پاکستانی باؤلنگ اٹیک کا اہم حصہ ہے، اس لیے ان کی غیر موجودگی ٹیم کے لیے ایک بڑا خلا پیدا کر سکتی ہے۔


