امریکہ نے اپنے حالیہ موقف میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے روسی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کردہ اس نئے لائسنس کے تحت وہ ممالک جو روس سے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنا چاہتے ہیں، اب 16 مئی 2026 تک اپنی خریداری جاری رکھ سکیں گے۔ یہ اعلان امریکی ٹریژری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے محض دو دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اس رعایت کو مزید نہ بڑھانے کا پختہ ارادہ ظاہر کیا تھا۔
اس فیصلے کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا شدید اتار چڑھاؤ اور ایشیائی ممالک کی جانب سے بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے تعطل نے عالمی منڈیوں میں سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ امریکی محکمہ خزانہ کے ترجمان کے مطابق، اس توسیع کا مقصد مارکیٹ میں تیل کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے تاکہ توانائی کے بحران سے دوچار ممالک کو ریلیف مل سکے۔
یہ نئی رعایت 11 اپریل کو ختم ہونے والی سابقہ 30 روزہ مدت کی جگہ لے گی اور مئی کے وسط تک نافذ العمل رہے گی۔ تاہم، واشنگٹن میں اس فیصلے کو سیاسی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے اور ریپبلکن و ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ خزانہ کا موقف ہے کہ وہ موجودہ حالات میں عالمی توانائی کی ضرورتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ایشیائی ممالک، جو اس وقت توانائی کے شدید بحران اور قیمتوں کے جھٹکوں کا سامنا کر رہے ہیں، اس فیصلے کو ایک عارضی ریلیف کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔


