ذرائع کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بار پھر دہشت گردی کی ہولناک لہر سامنے آئی ہے جہاں ایک شٹل ٹرین کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ بلوچستان حکومت کے حکام اور ترجمان نے واقعے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکا کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن یا اس کے قریبی ٹریک پر کھڑی شٹل ٹرین کے پاس ہوا، جس کی زد میں آ کر متعدد مسافر اور وہاں موجود سیکیورٹی اہلکار خاک و خون میں تڑپ گئے۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ ٹرین کی بوگیوں کو شدید نقصان پہنچا اور آس پاس کی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر کوئٹہ کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں صوبائی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
بلوچستان حکومت نے اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے نہتے شہریوں پر وحشیانہ حملہ قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دھماکے کی نوعیت اور بارودی مواد کی مقدار کا تعین کرنے کے لیے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، اور حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس گھناؤنے واقعے کے ماسٹر مائنڈز کو جلد ہی کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔


