عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اب بڑی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری عسکری آپریشن کی عارضی معطلی نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو کم کر دیا ہے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت تقریباً 2 فیصد کمی کے بعد 100.4 ڈالر فی بیرل تک آگئی ہے، جبکہ برینٹ کروڈ بھی 107.9 ڈالر کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں اس کمی کی سب سے بڑی وجہ ‘پروجیکٹ فریڈم’ کی عارضی معطلی ہے۔ یہ آپریشن آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کی بحفاظت واپسی اور بحری راستوں کی بحالی کے لیے شروع کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے خطے میں شدید عسکری تناؤ پایا جا رہا تھا۔
سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ آپریشن کی معطلی سے ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ کا خطرہ فی الحال کم ہو گیا ہے، جس سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خوف بھی ٹل رہا ہے۔ اگر تیل کی قیمتوں میں کمی کا یہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے یہ ایک بڑی خوشخبری ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف ملنے کا امکان پیدا ہوگا۔


