وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی دو روزہ غیر اعلانیہ دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جسے سفارتی ذرائع واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل کا شکار امن عمل کو بحال کرنے کی پاکستان کی مسلسل کوششوں کی کڑی قرار دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز کو مسترد کیے جانے کے بعد، پاکستان نے دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کو مکمل طور پر ناکام ہونے سے بچانے کے لیے اپنی ‘شٹل ڈپلومیسی’ تیز کر دی ہے۔ اگرچہ اس دورے کو سرکاری سطح پر دوطرفہ سیکیورٹی اور سرحدی تعاون کا نام دیا گیا ہے، لیکن اصل مقصد آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو کم کرنا اور عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کو محفوظ بنانا ہے، جس کے لیے محسن نقوی اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراغچی نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں واشنگٹن پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متضاد بیانات کے باعث ایران اب امریکی نیت پر بھروسہ نہیں کر سکتا، اس لیے کسی بھی حتمی معاہدے سے پہلے تمام معاملات کو واضح کرنا ہوگا۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی میڈیا کو انٹرویو میں کہا ہے کہ تہران معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے، اور اگر ایسا نہ ہوا تو ان کے لیے حالات انتہائی خراب ہو جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے يورینیم افزودگی کو 20 سال کے لیے معطل کرنے کی شرط پر نرمی کا اشارہ بھی دیا ہے، تاہم مذاکرات میں تاحال ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ اسی دوران روسی صدر پیوٹن اور یو اے ای کے صدر نے بھی ایرانی تنازع پر ٹیلیفونک گفتگو کی ہے، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری جنگ شروع کرنے والے عناصر پر عائد ہوتی ہے۔


